
4,710,740 members
انسانی رویے سے لے کر نیورو متنوع نقطہ نظر تک، دریافت کریں کہ ہم کیسے سوچتے، محسوس کرتے اور دنیا کا تجربہ کرتے ہیں 🧠
mjhe ksi ny kaha tha k agr khuda ksi ka bura chahta hay to wo usko ksi ese shakhs k pyaar men mubtila krdeta hay jo laahasil hota hay jo usky naseeb men nahi hotaa...
men pal pal apny libido se lar rahi hon... kion k mjhe us shakhs k bagher he apni bakia zndagi ksi taraah kaatni hay...men na ksi se zina krskti hn islam ki wjaa se na he shaadi...meri zndagi ka sb se bara masla ye libido hay...jis ki wja se na mujh se kahin na job hopaati hay na focus kr k parha jata hay na koi face hota hay...
ap sab se duaon ki appeal hay k Allah meri halat pr rehem krde, jin k saath ye masail nhi hen...!!
@farhan00497
ایک شخص اپنے خاندان کے ساتھ بالکل نارمل نظر آ سکتا ہے، مگر دوسروں کے ساتھ مسلسل استحصالی رویہ رکھ سکتا ہے۔
سائیکوپیتھی کی شناخت کسی ایک رویے، جھوٹ یا ظاہری دلکشی سے قابلِ اعتماد طور پر نہیں کی جا سکتی۔
تحقیق میں بار بار سامنے آنے والے رویوں کو دیکھا جاتا ہے.دھوکہ دہی، manipulation، بے حسی، پچھتاوے کی کمی اور دوسروں کا استحصال۔
PCL-R، CAPP، TriPM، PPI-R اور SRP-4 جیسے باقاعدہ assessment tools انہی traits کو جانچتے ہیں۔
سائیکوپیتھی ایک dimensional construct ہے اس کی شدت اور خصوصیات ہر فرد میں مختلف ہو سکتی ہیں۔
کامیابی، ذہانت، charisma یا بظاہر پرسکون شخصیت خود سائیکوپیتھی کی علامت نہیں۔
اسی طرح خود غرض، narcissistic یا مشکل مزاج ہونا بھی لازماً psychopathy نہیں۔
زیادہ معتبر evidence طویل عرصے کے رویوں، structured assessment اور مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات سے آتا ہے۔
لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ “سائیکوپیتھ کو کیسے پہچانیں؟” بلکہ یہ ہے کہ کیا مسلسل دوسروں کو manipulate اور exploit کرنے کا pattern موجود ہے؟
@Ovi
معمارِ حیات
A Poem on Female Sovereignty & Self-Love
Architect of Life
Mau'maar-e-Hayaat
Ovais
@Ovi
مکالمہ: نقابِ تضاد اور جبر کی حقیقت
جب اس سستے اور کھوکھلے بیانیے کو اچھالا جاتا ہے کہ "تعلق سے جنسی اختلاط نکال دو تو عورت کے پاس دینے کو کچھ نہیں بچتا"، تو یہ دراصل اس بیمار سوچ کا اعتراف ہوتا ہے جو عورت کو صرف ایک جسم اور شے سمجھتی ہے۔
ذرا اس دوغلے پن کا فکری المیہ دیکھیے: مرد کو چار دیواری کے پیچھے تھوڑی دیر کے لیے بٹھا دو، تو وہ فرسٹریشن اور بے چینی میں دیوار میں سوراخ کرتا نظر آئے گا—جو یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ انسان، انسان بننا کبھی سیکھ ہی نہیں پایا۔ اور عورت کو چار دیواری کے پیچھے بٹھانا ہو؟ اوہ، معذرت! یہ پدرشاہی نظام تو صدیوں سے اسی کی تگ و دو میں ہے، مگر وہاں دیوار میں کوئی سوراخ نہیں دکھائی دیتا... وہاں دیواروں کے اندر صرف روح کا دم گھٹتا ہے، خاموشی سے، بغیر کسی سوراخ کے، کیونکہ اس کے حصے کی پوری دنیا پہلے ہی چھین کر اسے بے بس کر دیا جاتا ہے اور پھر ڈھٹائی سے یہ طعنہ بھی دیا جاتا ہے کہ اس کے پاس دینے کو کیا ہے۔
جب معاشرہ خود ہر حقیقی رشتے، احساس اور مکالمے کو نوچ کر کھا چکا ہو، تب اس قسم کی سطحی پوسٹس اور مردانہ برتری کا غرور دراصل اس کی اپنی ذہنی پستی کا منہ بولتا ثبوت بن جاتا ہے۔
اس فکری اور معاشرتی تضاد کے بارے میں آپ کی کیا سوچ ہے؟
Dialogue: The Mask of Contradiction and the Reality of Oppression
When this cheap and hollow narrative is tossed around; that "remove sexual interaction from a relationship, and you'll see that women have absolutely nothing to offer", it is actually an admission of a diseased mindset that reduces a woman to merely a body and an object.
Just look at the philosophical tragedy of this hypocrisy: put a man behind four walls for a short while, and he will be seen drilling a hole into the wall out of frustration and restlessness, which is enough to prove that man never truly learned how to become human. And putting a woman behind four walls? Oh, apologies! The patriarchal system has been striving for that for centuries already, yet no hole in the wall is ever visible there... inside those walls, only the soul suffocates in complete silence, without any hole at all, because her entire world was snatched away beforehand to render her helpless, and then with sheer audacity, she is taunted for having nothing to offer.
When society itself has torn apart every genuine relationship, emotion, and dialogue, then such superficial posts and the arrogance of male supremacy become the living proof of its own mental degradation.
What are your thoughts on this philosophical and societal contradiction?
@Ovi
ہماری معاشرتی روایات میں دوسروں کو زیر کرنے, مغلوب رکھنے اور نفسیاتی جبر کا شکار بنانے کی بیماری اب ایک ناگوار ناسور بن چکی ہے۔ گیس لائٹنگ, بریڈ کرمبنگ, ہٹ دھرمی اور ہر رشتے میں حاکمیت جتانے کی یہ ہوس اس بات کا غماز ہے کہ ہم نے محبت اور مکالمے کی زبان بھلا دی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ زہر ہمارے اندر کہاں سے سرایت کر گیا ہے؟ کیوں ہمیں ہر وقت دوسرے شخص کو پست کرنے، غصے اور جارحیت سے اپنے فیصلوں کو مسلط کرنے اور ہر بات میں اخلاقی جج بن جانے کا جنون لاحق ہے؟ کیا ہمارا معاشرہ اب صرف ایک نفسیاتی اکھاڑا بن چکا ہے جہاں ہم شفا دینے کے بجائے ایک دوسرے کی روح کو گھائل کرنے میں سکون پاتے ہیں؟
اس روئیے کے زہراب کے بارے میں آپ کی کیا سوچ ہے؟
In our social traditions, the disease of subjugating others, keeping them dominated, and subjecting them to psychological oppression has now become a deeply painful ulcer. Gaslighting, breadcrumbing, stubbornness, and the lust to assert supremacy in every relationship are clear indicators that we have forgotten the language of love and dialogue.
The question arises: where has this poison seeped into us from? Why do we have an obsession with constantly pulling the other person down, imposing our decisions through anger and aggression, and acting as moral judges in every matter? Has our society now merely become a psychological arena where, instead of healing, we find comfort in wounding each other's souls?
What are your thoughts on this poisonous mindset?
@Nadaan63511693
ڈپریشن کی بڑی وجہ فراغت ہے
✨ نفسیاتی مسائل کا علاج یہی ہے کہ:
▪️بے روزگار نہ رہو، تنہا نہ رہو ..
▪️ خود کو پیداواری کاموں میں
▪️مصروف رکھو ، اپنی روز مرہ زندگی سے ہی خوشی کشید کرو!
آج کا مشقت بھرا دن ہی آنے والے کل کو برکتوں سے بھرنے کا ضامن ہے...
👈 خدا کی قسم، میں کام کی شدید مصروفیت سے خوش ہوں، چاہے میں کام کا آدھا حصہ بھی مکمل نہ کر سکوں، مگر یہ ادھورا کام میرے تمام دن کو منظم کرتا ہے اور مجھے مکمل ہونے کا بھرپور احساس دلاتا ہے۔