
140,785 members
🇦🇪🕌 متحدہ عرب امارات میں مسلمانوں کے لیے ایک کمیونٹی، جہاں ہم اپنے عقیدے اور ثقافتی تنوع کا جشن مناتے ہیں۔
Koi serious larka ha yahin.... Ya sab postmortem krna aye ha....
Need a " Fakeer Tabiyat " Partner for Abaadi I mean ( Shadii )
Who is this Fakeer Tabiyat kind?
Achaaa Joh banda na
تکبر نہیں کرتا، عاجزی سے پیش آتا ہے
دولت، شہرت یا دنیاوی چیزوں کا زیادہ لالچ نہیں رکھتا۔
سادہ زندگی پسند کرتا
دوسروں کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آتا ہے۔
شکر گزار ہوتا ہے اور کم میں بھی خوش رہتا ہے۔
دل میں حسد اور نفرت کم رکھتا ہے۔
For Example
اگر کسی کے پاس بہت کچھ ہو لیکن پھر بھی وہ سادہ مزاج، عاجز اور بے لالچ ہو تو لوگ کہتے ہیں: یہ تو فقیر طبیعت انسان
Any lady serious about marriage koe hai jo serious ho ke families ko involved karein...ek respectable family se....jo humble polite and loyal ho....mature person please.
I am divorce with one son.
“میری بیوی نے ایک دن مجھ سے کہا، ‘میں تم سے ناراض نہیں ہوں… بس اب تم میرے لیے ضروری نہیں رہے’—اور اُس دن مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ میں نے اپنا گھر خود اپنے ہاتھوں سے خالی کر دیا ہے…”
ہماری شادی کو دس سال ہو چکے تھے۔
وہ ہمیشہ کہتی تھی،
“مجھے تم سے زیادہ کچھ نہیں چاہیے… بس تم چاہیے ہو…”
اور میں ہمیشہ ہنستا تھا۔
مجھے لگتا تھا یہ جملہ محبت نہیں… عادت ہے۔
میں کمانے میں مصروف تھا…
وہ گھر سنبھالنے میں۔
میں تھک کر آتا…
وہ مسکرا کر دروازہ کھولتی۔
میں موبائل میں گم ہو جاتا…
وہ چائے میرے سامنے رکھ دیتی۔
میں دوستوں کے ساتھ مصروف…
وہ میرے انتظار میں۔
مجھے لگتا تھا…
یہ سب ہمیشہ ایسے ہی رہے گا۔
کیونکہ وہ تھی۔
اور وہ ہمیشہ رہے گی۔
یہ میرا سب سے بڑا دھوکہ تھا۔
شروع میں وہ بہت باتیں کرتی تھی۔
“آج کیا ہوا؟”
“آپ تھک گئے ہوں گے…”
“چلو کہیں چلتے ہیں…”
پھر آہستہ آہستہ اُس نے پوچھنا چھوڑ دیا۔
میں نے کبھی نوٹس نہیں کیا۔
یا شاید… میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا۔
ایک دن اُس نے کہا،
“ہم کہیں باہر چلیں؟”
میں نے بغیر دیکھے جواب دیا،
“یار پلیز، ابھی نہیں… بہت تھکا ہوں…”
وہ خاموش ہو گئی۔
وہ پہلی خاموشی تھی…
جسے میں نے سنجیدہ نہیں لیا۔
پھر وہ بولنا کم کرتی گئی۔
پھر اُس نے شکایت کرنا چھوڑ دی۔
پھر اُس نے انتظار کرنا چھوڑ دیا۔
اور ایک دن…
اُس نے محسوس کرنا چھوڑ دیا۔
میں نے تب بھی کچھ نہیں دیکھا۔
کیونکہ میں سمجھتا تھا…
گھر چل رہا ہے، تو سب ٹھیک ہے۔
پھر ایک رات… میں دیر سے گھر آیا۔
دروازہ کھلا ہوا تھا۔
روشنی جل رہی تھی۔
مگر عجیب سی خاموشی تھی۔
وہ صوفے پر بیٹھی تھی… سیدھی… خاموش… جیسے کسی فیصلے پر پہنچ چکی ہو۔
میں نے ہنستے ہوئے کہا،
“کیا ہوا؟ آج اتنی خاموش کیوں ہو؟”
اُس نے میری طرف دیکھا۔
وہ نظر… میں آج تک نہیں بھول پایا۔
وہ غصہ نہیں تھا۔
وہ شکوہ نہیں تھا۔
وہ خالی پن تھا۔
“میں تم سے ناراض نہیں ہوں…” اُس نے آہستہ سے کہا۔
میں نے سکھ کا سانس لیا،
“تو پھر مسئلہ کیا ہے؟”
وہ مسکرائی… بہت ہلکی سی۔
“مسئلہ یہ ہے… کہ اب تم میرے لیے ضروری نہیں رہے…”
میرے ہاتھ سے موبائل گر گیا۔
“کیا مطلب؟”
“مطلب یہ کہ… میں اب تمہارا انتظار نہیں کرتی…
تم دیر سے آؤ یا جلدی… مجھے فرق نہیں پڑتا…”
میں نے ہنستے ہوئے بات ہلکی کرنے کی کوشش کی،
“یہ بھی کوئی بات ہوئی…”
وہ بولی نہیں۔
بس ایک فائل میری طرف بڑھا دی۔
میں نے کھولا۔
طلاق کے کاغذات تھے۔
میرے اندر کچھ ٹوٹ گیا۔
“تم مذاق کر رہی ہو نا؟”
“نہیں…”
“میں بدل جاؤں گا…”
وہ پہلی بار ہلکا سا ہنسی…
“تمہیں پتا ہے… سب سے زیادہ درد کب ہوتا ہے؟”
میں خاموش رہا۔
“جب انسان چیخ چیخ کر تھک جائے…
اور پھر ایک دن خاموش ہو جائے…”
میری آنکھوں کے سامنے پچھلے دس سال گھوم گئے—
وہ دروازے پر میرا انتظار…
وہ چائے…
وہ چھوٹی چھوٹی باتیں…
وہ بار بار کی کوششیں…
اور میں…
ہمیشہ مصروف…
ہمیشہ بے پرواہ…
“ایک موقع اور دے دو…” میں نے آہستہ سے کہا۔
وہ اُٹھی… دروازے کی طرف گئی…
پھر رُکی…
“میں نے تمہیں بہت موقع دیے تھے…
تم نے کبھی وقت نہیں دیا…”
یہ کہہ کر وہ باہر چلی گئی۔
اور پہلی بار…
گھر واقعی خالی ہو گیا۔
اُس کے بعد مجھے سمجھ آیا—
بیویاں ایک دن میں نہیں چھوڑتیں…
وہ آہستہ آہستہ دور ہوتی ہیں…
پہلے بولنا چھوڑتی ہیں…
پھر مانگنا چھوڑتی ہیں…
پھر امید چھوڑ دیتی ہیں…
اور جب وہ چلی جاتی ہیں…
تو صرف انسان نہیں جاتا…
پورا گھر ساتھ لے جاتا ہے۔
اگر آپ کے گھر میں کوئی آپ کا انتظار کرتا ہے…
تو اُسے عادت مت بننے دیں…
کیونکہ جب محبت عادت بن جائے…
تو کھو جانے پر شور نہیں کرتی…
خاموشی سے ختم ہو جاتی ہے۔