Group Hero

بک کلب

165,707 members

آپ نے حال ہی میں پڑھی سب سے اچھی چیز کیا ہے؟ 📚 تمام کتابی کیڑوں کو بلا رہا ہے 🐛✨ ادبی شہنائیوں اور سنسنی خیز پلاٹ ٹوئسٹ کے لیے تیار ہو جائیں! موز سوشل کے اس کونے میں، ہم کتابیں پیزا (تقریباً) سے زیادہ تیزی سے کھا جاتے ہیں۔ چاہے آپ کتابی ننجا ہوں یا پڑھنے والے دوکھیباز، اپنی سفارشات شیئر کریں 📖 آئیے ان صفحات کو پلٹیں اور چائے، ادبی انداز کو پلائیں! ☕🔥

Group share karain
Ismail Hashmi

@MIsmailHashmi

6 days ago

منوانا کیوں ضروری ہے؟

آج کے اس نئے دور میں ہمارے لیے ایک نئی پریشانی، یا یوں کہہ لیجیے ایک نئی الجھن، پیدا ہو گئی ہے۔ وہ یہ کہ جب ہم کسی سے علمی مکالمہ یا بحث کرتے ہیں تو ہمارا سارا دھیان اس بات پر ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح سامنے والے کو اپنے نظریے پر قائل کر لیں، اور اس کے لیے ہم ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہماری توجہ اپنے مؤقف کو مضبوط دلائل کے ساتھ پیش کرنے کے بجائے صرف اس بات پر مرکوز ہو جاتی ہے کہ کسی بھی طرح مخاطب ہماری بات مان لے، چاہے وہ دل سے قائل ہوا ہو یا نہیں۔

سب سے پہلے ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ دینی مباحث کے دوران ہماری نیت صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہونی چاہیے، اور ہمارا مقصد حق بات کو دلائل کے ساتھ واضح کرنا ہونا چاہیے۔ ہدایت دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے، اس کی فکر ہمیں نہیں کرنی چاہیے۔ اکثر لوگ اسی وجہ سے بھی فکری تنزلی کا شکار ہو جاتے ہیں کہ وہ سامنے والے کو زبردستی اس راستے پر لانا چاہتے ہیں جو انہیں حق معلوم ہوتا ہے۔

دوسری طرف، دینی معاملات کے علاوہ دیگر امور میں بھی یہی رویہ عام نظر آتا ہے۔ ہم دوسرے کے نظریے کو قبول کرنا تو درکنار، اسے سننے کے بھی روادار نہیں ہوتے، جبکہ ایسا طرزِ عمل ایک مثبت علمی معاشرے کو جنم دینے کے بجائے منفی فضا کو فروغ دیتا ہے۔

ہمیں چاہیے کہ خواہ ہمیں دوسرے کے نظریے سے کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو، ہم اس کی رائے اور اس کی عزت کا اسی طرح احترام کریں جیسے ہم اپنی عزت اور اپنے مؤقف کے احترام کی توقع رکھتے ہیں۔

مزید یہ کہ اس طرزِ عمل کا ہماری ذہنی کیفیت پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔ انسان ہر وقت ذہنی الجھن کا شکار رہتا ہے، اور رفتہ رفتہ چڑچڑا پن اور جلد غصہ آ جانا اس کی فطرت کا حصہ بن جاتا ہے۔

تحریر:اسماعیل ہاشمی

media
2 Likes
2
Share karain
Ismail Hashmi

@MIsmailHashmi

6 days ago

میں ہی کیوں پھنس گیا اس جال میں؟

اداسی، بے بسی، اکیلاپن، اور اوپر سے اس معاشرے کا طرزِ تکلم—یہ سب کچھ ایک ایسے انسان کے لیے کافی ہے جو اپنی حیات کو عذاب سمجھ بیٹھے۔

یہ کیا ہے کہ انسان ہر وقت اپنے ہی خیالات سے لڑتا رہے؟ نہ جانے کتنے ایسے خیالات ہیں جو مجھے پاگل پن کا احساس دلاتے ہیں۔ ہر وقت میرے دماغ میں ہزاروں آوازیں ایک چیختے ہوئے ہجوم کا سا تصور پیدا کرتی ہیں۔

آخر کیوں ہو رہا ہے یہ سب میرے ساتھ؟ میں ہی کیوں پھنس گیا اس جال میں؟ میں نے تو کبھی ایسا نہیں سوچا تھا کہ میرے ساتھ یہ سب کچھ ہوگا۔

میں اپنے دل کا حال کس سے کہوں؟ کس کے سامنے اپنے اندر کی یہ کشمکش رکھوں؟ ذرا تصور کیجیے، اگر یہ سب حالات آپ کے ساتھ پیش آ رہے ہوں تو آپ کیا محسوس کریں گے؟ اس موقع پر آپ کے دل میں کیا امید باقی رہ جائے گی؟

کیا یہ امید کہ لوگ آپ کو سمجھیں گے؟ یا پھر یہ خوف کہ اگر آپ نے اپنے خیالات کسی کے سامنے بیان کیے تو وہ آپ کا مذاق اڑائیں گے، آپ کی عزت مجروح کریں گے، یا آپ پر گمراہی کے فتوے لگا دیں گے؟

کیا ہم بطورِ معاشرہ اس کردار کے حامل ہیں کہ ذہنی کشمکش میں مبتلا لوگوں کو سمجھ سکیں؟ کیا ہم ان کی رہنمائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟

اس سوال کا جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ شاید آپ اب تک اپنے اندر سے اس کا جواب سن چکے ہوں گے۔

آئیے، ہم بطورِ معاشرہ اس جانب توجہ دیں۔

سب سے پہلے اپنے گھر پر نظر دوڑائیے۔ دیکھیے، کہیں ہماری بہن، بھائی یا کوئی قریبی رشتہ دار اس ذہنی کشمکش کا شکار تو نہیں؟ پھر اپنے دوستوں میں دیکھیے۔ شاید کوئی ایسا شخص آپ کے بالکل قریب موجود ہو جو اندر ہی اندر ایک ایسی جنگ لڑ رہا ہو جس سے دنیا بے خبر ہو۔

اگر ہم ایک ایک فرد کی طرف توجہ دینا شروع کر دیں تو ان شاء اللہ، رفتہ رفتہ، ہم اپنے معاشرے میں ذہنی دباؤ اور ذہنی اذیت کے مسائل کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ آخر انسان اس نہج تک پہنچتا کیسے ہے؟

اس کی بے شمار وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اول تو بطورِ مسلمان ہم سب جانتے ہیں کہ شیطان ہمارا کھلا دشمن ہے۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ انسان کو کمزور کرنے کے لیے اپنے وار نہ آزمائے؟

یہ مسائل دینی، جسمانی اور نفسیاتی—کسی بھی نوعیت کے ہو سکتے ہیں۔ جس تیزی سے ہمارا معاشرہ جدت کی طرف بڑھ رہا ہے، اسی تیزی سے ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

ہمیں چاہیے کہ بطورِ مسلمان، بطورِ باپ، شوہر، بھائی، بہن اور معاشرے کے ایک ذمہ دار فرد کے طور پر، اپنے آس پاس کے لوگوں کی خیریت دریافت کرتے رہیں۔ خاص طور پر اپنے قریبی لوگوں اور اپنے مسلمان بھائیوں کے حالات سے باخبر رہیں۔

ان کی بات سنیں، انہیں سمجھنے کی کوشش کریں اور ضرورت پڑنے پر مناسب رہنمائی فراہم کریں؛ کیونکہ ہر مسئلے کا حل محض نصیحت یا فتویٰ نہیں ہوتا۔ بعض اوقات انسان کو سب سے پہلے ایک ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے بغیر کسی فیصلے کے، خاموشی سے سن لے۔

تاکہ ہر شخص اپنے مسائل سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کر سکے، اپنے مقصدِ حیات کو سمجھ سکے اور اس مقصد کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھ سکے۔

آئیے، ہم ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں کوئی شخص اپنے دل کی بات کہنے سے خوف زدہ نہ ہو؛ جہاں ذہنی کشمکش میں مبتلا انسان مذاق کا نشانہ نہ بنے؛ جہاں ہر پریشان شخص کو گمراہ قرار دینے کے بجائے، پہلے اسے سمجھنے کی کوشش کی جائے۔

شاید کسی کی زندگی بدلنے کے لیے ہمیں صرف ایک کام کرنا ہو:

اسے خاموشی سے سننا۔

تحریر:اسماعیل ہاشمی

media
1 Like
Share karain
Selene

@moonlitattic

8 days ago

"Misr ki ek aurat se ek ghalti hui thi, ek jurm sarzad hua tha, magar Allah ne us ka parda rakh liya. Uska fa'al to bataya magar naam nahi. Aur jis cheez ka parda Allah rakhe, wo khul nahi sakta. Magar humne to Yusuf a.s aur Zulaikha ke qisse har masjid o minbar par jaakar sunay. Hum kaise log hain?

  • -Nimrah Ahmad in Mushaf

I read these lines 45 minutes ago and couldn't read further. "Hum kaise log hain?"... Kaise log hain hum aakhir? Hum deen ki dawat to dete hain lekin ghusse me, takabbur ke sath, jalal me, with a strange sense of entitlement, with the attitude that if a person in front of us says anything other than a straight 'Yes', they're totally and absolutely wrong.

Hum kaise log hain? Ke hum me darguzar aur maaf krne ka jazba hi nahi.. hume apne liye to maafi chahiye, hume apne liye margin of error chahiye, hume chahiye ke samne wala samjhe that we just got triggered and didn't mean it, lekin we'll not give that margin to anyone. Tauba ke darwaze pe kisi ek ka naam to nahi likha hota. Hum kaise log hain? Hum manne ko taiyyar ki nhi hote ke koi aur bhi ghlti krke sudhar sakta hai. Ke guidance kisiko bhi mil sakti hai.. aur kisise bhi li jaa sakti hai..

Hum kaise log hain? Hum wo log hain jinhe sirf apna aap sahi lagta hai. Hum wo log hain jinhe Sureh Muzammil ya Mudassir ki koi ayat use kiye bina sabse apni baat manwani hai..
Hum.. hum kaise log hain..

media
5 Likes
4
Share karain
Umara Naz

@umaranaz

8 days ago

Sb sy best gift apk liye kia hy
For me diary coffee or books
.
What about you

1 Like
5
Share karain
Umara Naz

@umaranaz

10 days ago

کتاب کا نام عورت مغرب اور اسلام از ثروت جمال اومعی
تحریر و تبصرہ عمارہ ناز
اگرچہ کتاب تحقیقی طور پر لکھنے کی کوشش کی گئی ہے مگر مسلمانوں کے ہر مسئلے کی جڑ کو مغربی تعلیمات سے جوڑا گیا

مغرب کی عورت کی پامالی کے تو ثبوت و شواہد دیے گئے مسلمان عورت کے نہیں بس اسے کلچر سے جوڑ دیا گیا۔
جیسے ہراسانی، ر۔ی۔پ کے کیس میں پاکستان میں صرف دو فیصد مجرم کیفر کردار تک پہنچتے ہیں برطانیہ میں چھیالیس فیصد
مگر انہیں برطانیہ کے اعداد و شمار پر اعتراض ہے اپنے پر نہیں؟ کسی ایک مسلمان ملک کی مثال پیش نہیں کی گئی ۔عجیب 4/10
عمارہ ناز

media
1 Like
Share karain
Umara Naz

@umaranaz

12 days ago

نہیں، یادیں آہستہ آہستہ نہیں لوٹیں بلکہ اسکے ذہن میں یوں ٹوٹ کر گریں جیسے پتھروں کی دیوار ڈھے جائے اور اسکے ٹکڑے ایک دوسرے پر ڈھیر ہوتے چلے جائیں۔
حیفا کی طرف واپسی
غسان کفنانی

2 Likes
Share karain
Ahmad Raza Awan

@AhmadRaza511892

12 days ago

اپنی صبح کا آغاز فجر کی نماز سے کریں کیونکہ جو فجر کی نماز پڑھتا ہے، وہ دن بھر کی مشقت میں اللہ کی مدد اور رحمت سے بھر پور رہتا ہے۔ فجر کی نماز کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں تاکہ آپ کی زندگی میں ہر دن خوشیوں اور کامیابیوں سے بھرا ہوا ہو۔ ❤️

Share karain
Umara Naz

@umaranaz

13 days ago

کتاب کا نام : حیفا کی طرف واپسی
مصنف غسان کنفانی
مترجم اسد اللہ اسداللہ میر الحسنی

غسان کنفانی فلسطینی لکھاری ہیں جنہوں نے چھتیس برس کی عمر پائی اور اس دوران اٹھارہ کتابیں لکھیں۔ حیفہ کی واپسی انکا اسی صفحات پر مشتمل مختصر ناول ہے جس کا ترجمہ اسد اللہ میر الحسنی نے کیا ہے۔
کہانی ہے ایک فلسطینی نوجوان جوڑے کی بیس برس بعد گھر واپسی کی۔۔ جب انہیں افواج نے دھکیل کر اپنے علاقے سے نکالا تو پانچ ماہ کا خلدون پرانے گھر حیفہ میں رہ گیا۔۔
بیس برس گزر گئے کوششوں کو۔۔
آخرکار جب وہ اپنے حیفا کی طرف واپس مڑتے ہیں تو اپنے ہی گھر میں یہودی عورت کو دیکھ کر جو کیفیت ہوتی ہے انکی اور اسکے بعد اس سے بڑا کرب کیا ہوگا کہ ایک عرب ماں کی کوکھ سے نکلا بچہ فوج میں یہودی بن کر اسی ماں کے خلاف اسکے دیگر بچوں کے خلاف لڑ رہا ہے؟
غسان کنفانی کہتے ہیں کہ شاید وطن سعید کیلئے ماضی تھا مگر فلسطینی نوجوانوں کیلئے وطن ایک مستقبل ہے۔۔
اتنا مختصر اور اتنا پراثر ناول میں نے پہلے نہیں پڑھا۔۔شاید فلسطینیوں کے قلم میں صرف سیاہی نہیں خون بھی شامل ہوتا ہے اپنوں کا تب وہ اتنے درد سے لکھتے ہیں۔۔ کیا خوب کتاب ہے۔
تبصرہ از عمارہ ناز

1 Like
Share karain