
15,356,499 members
🕋 روحانیت، احادیث، اسلامی تاریخ اور تعلیمات۔ روشن خیال گفتگو میں ساتھی ممبران کے ساتھ جڑیں کیونکہ ہم اسلام کی گہری سمجھ اور تعریف چاہتے ہیں۔
@MAftab82924237
Assalamualaikum kese ho aap sab😊
Yeh choti age k boys jo shadi k liye approach karty hain pehlay ghar walon say ku nahe poch letay. Pehlay larki say baatin karty enjoy karty phir boltay ghar walay nahe maan rahy age ke wajah say. Yeh koi mazak hai kiaa 😡😡
@mfaizan55
﷽
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا "علم تنہائی میں دوست بے اور سفر میں ساتھی ہے اور اندرونی دوست ہے تنہائی کے وقت. علم دشمن پر تیز تلوار ہے اور آخر میں دوستوں میں عزت ہے"
ایک آدمی نے امام صاحب سے کہا کہ میں کل سے مسجد نہیں آؤنگا. پوچھا کہ کیوں؟ جواب دیا کہ خطبہ کے دوران بعض لوگ موبائل سے کھیلتے ہیں بعض غیبت کرتے ہیں اور بعض صحیح طور پر زندگی نہیں گزارتے ہیں. سب منافق ہیں
امام صاحب نے کہا کہ فیصلہ کرنے سے پہلے ایک کام کرو. پانی کا برتن ہاتھ میں لے کر دو چکر لگاؤ. اس کے بعد پوچھا کہ اب کوئی موبائل پر یا غیبت میں یا غلط زندگی گزارنے میں لگا ہوا ہے؟
جواب دیا کہ پانی پر نظر رکھنے کی وجہ سے کوئی نظر نہیں آیا
امام صاحب نے کہا کہ مسجد آتے وقت دھیان اللہ تعالیٰ پر رکھو
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی اتباع کرنے کا حکم دیا نہ کہ ہر مسلماں کا
اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا تعلق صحیح رکھو. اس کے لئے دوسروں کو خلل کرنے کے موقع نہ دو
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین
@mfaizan55
﷽
چار چیزیں خوشی اور غم کا وجہ ہے
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا "چار چیزیں خوشی کا وجہ ہوتے ہیں: نیک بیوی؛ کشادہ گھر؛ نیک پڑوسی اور اچھی سواری. چار چیزیں غم کا وجہ ہوتے ہیں: برا پڑوسی؛ بُری بیوی؛ تنگ گھر اور بُری سواری"
(صحیح ابن حبان)
@WaqasBhutta93914075
السلام علیکم
ایک بار محبّت سے درود شریف پڑھ کر react کریں🌺
❁بِسْــــــــــــــــــمِ اﷲِالرَّحْمَنِ اارَّحِيم❁۔
اَللّٰھُمَّ صَــّلِ عَلٰی ,مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ📿🫠
اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ،📿🫠
@Zaid50210173
کچھ رشتے ختم نہیں ہوتے، بس ان کی موجودگی خاموشی میں بدل جاتی ہے۔ وقت گزر جاتا ہے، لوگ بدل جاتے ہیں، مگر دل کے کسی کونے میں ایک آخری لمحہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
میں نے ماضی کے بہت سے صفحے پھاڑ دیے، کئی یادیں وقت کے حوالے کر دیں، کئی باتوں کو خاموشی کی قبر میں دفن کر دیا، مگر عجیب بات یہ ہے کہ ایک لفظ آج بھی میرے اندر ویسے ہی زندہ ہے... "الوداع"۔
شاید کچھ لفظ کبھی پرانے نہیں ہوتے، کیونکہ وہ صرف کانوں تک نہیں بلکہ روح تک اتر جاتے ہیں۔ کاش بھول جانا اتنا آسان ہوتا جتنا لوگ کہہ دیتے ہیں۔ کچھ لوگ چلے جاتے ہیں، مگر ان کی کمی کہیں نہیں جاتی۔ دل آج بھی انہی قدموں کی آہٹ سنتا رہتا ہے جو کبھی لوٹ کر نہیں آتے۔
اور شاید کچھ کہانیاں مکمل ہونے کے لیے نہیں ہوتیں... وہ صرف یہ سکھانے آتی ہیں کہ بعض درد انسان کا ہمیشہ کا ساتھی بن جاتے ہیں۔
@Zaid50210173
⏳🏆⏳
🖋🌹💠 سبــق آمـوز کہــانیــاں 💠🌹🖋
👈 ماں کا قرض __!!
دوستو! کہتے ہیں کہ ایک بیٹا پڑھ لکھ کر بہت بڑا آدمی بن گیا۔ والد کی وفات کے بعد اس کی ماں نے ہر طرح کے کام کر کے اسے اس قابل بنایا تھا کہ وہ زندگی میں کامیاب ہو سکے۔
شادی کے بعد اس کی بیوی کو ماں سے شکایت رہنے لگی کہ وہ ان کے ’’اسٹیٹس‘‘ میں فِٹ نہیں ہیں۔ اسے لوگوں کے سامنے یہ بتانے میں بھی حجاب محسوس ہوتا کہ یہ ایک اَن پڑھ عورت اس کی ساس ہے۔
بات بڑھتے بڑھتے ایک دن اس مقام تک پہنچ گئی کہ بیٹے نے اپنی ماں سے کہا:
’’ماں! اب میں اس قابل ہو گیا ہوں کہ کسی بھی قسم کا قرض ادا کر سکتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ تم اور میں دونوں سکون اور خوشی سے زندگی گزاریں۔ اس لیے آج تم نے مجھ پر اب تک جو کچھ خرچ کیا ہے، اس کا پورا حساب سود سمیت لگا کر مجھے بتا دو۔ میں وہ سب قرض ادا کر دوں گا۔ اس کے بعد ہم الگ الگ سکون سے رہیں گے۔‘‘
ماں نے کچھ دیر سوچنے کے بعد جواب دیا:
’’بیٹا! حساب ذرا لمبا ہے۔ سوچ سمجھ کر بتانا پڑے گا۔ مجھے کچھ وقت چاہیے۔‘‘
بیٹے نے کہا:
’’ماں! کوئی جلدی نہیں ہے۔ دو چار دنوں میں حساب بتا دینا۔‘‘
رات ہوئی۔ سب لوگ سو گئے۔ کچھ دیر بعد ماں نے ایک لوٹے میں پانی لیا اور بیٹے کے کمرے میں داخل ہوئی۔ بیٹا اپنے بستر پر سو رہا تھا۔ ماں نے بستر کے ایک طرف پانی ڈال دیا۔
بیٹے نے کروٹ بدل لی۔
ماں نے دوسری طرف بھی پانی ڈال دیا۔ بیٹے نے پھر کروٹ بدل لی۔ وہ جس طرف کروٹ لیتا، ماں اسی طرف پانی ڈال دیتی۔
آخرکار بیٹا پریشان ہو کر اٹھ بیٹھا اور جھنجھلا کر بولا:
’’ماں! یہ آپ کیا کر رہی ہیں؟ میرے بستر کو پانی پانی کیوں کر دیا؟‘‘
ماں نے نہایت سکون سے جواب دیا:
’’بیٹا! تم نے مجھ سے پوری زندگی کا حساب بنانے کو کہا تھا۔ میں ابھی یہ حساب لگا رہی تھی کہ تم نے اپنے بچپن میں کتنی راتیں میرے بستر کو گیلا کیا اور میں نے تمہیں سنبھالتے ہوئے کتنی راتیں جاگ کر گزاری ہیں۔ یہ تو صرف پہلی رات کا حساب ہے اور تم ابھی سے گھبرا گئے ہو۔ میں نے تو ابھی وہ حساب شروع بھی نہیں کیا جسے تم کبھی ادا کر سکو!‘‘
ماں کی یہ بات بیٹے کے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ گئی۔ اس کے سامنے اپنی پوری زندگی کی حقیقت آشکار ہو گئی۔
وہ رات اس نے سوچتے ہوئے گزار دی۔ شاید اسے یہ احساس ہو چکا تھا کہ ماں کا قرض ایسا قرض ہے جسے دنیا کی کوئی دولت ادا نہیں کر سکتی۔
ماں کی محبت، اس کی قربانیاں اور اس کی بے لوث خدمت کا کوئی مالی حساب نہیں ہوتا۔ ماں کی قدر اس وقت کیجیے جب وہ آپ کے درمیان موجود ہے، کیونکہ وقت گزر جانے کے بعد صرف افسوس باقی رہ جاتا ہے۔ (ماخوذ)
@Quratulain68174695
Moja apna Liya Acha life patner cye Jo bus kuhbsort ho 🤭💗
@Zunar48350497
Zunair
@Muhammad56433
’’اگر میں ننانوے کام درست کروں اور ایک غلطی کر بیٹھوں، تو لوگ اس ایک کو پکڑ لیں گے اور ان ننانوے کو چھوڑ دیں گے۔‘‘
(امام شعبی رحمہ اللہ | حلية الأولياء لأبي نعيم : ٤/ ٣٢٠)