کہاں ہو کہ آنکھیں منتظر ہیں کب سے
صدیوں سے سوئ نہیں ہیں
تیرے خوابوں کے معتبر ہونے کا
انتظار لئے
وہ تری رفاقت کے حسیں پل
ان پلکوں کی جھالر میں جو سمٹے ہوئے ہیں
کب تلک ان کا بوجھ اٹھائیں گی یہ
سنو زندگی کی شام ڈھل رہی ہے
عمر رفتہ گزر رہی ہے
یہ آنکھیں تھک نہ جائیں کہیں
انہیں نیند آ رہی ہے
یہ سو نہ جائیں کہیں
کہاں ہو لوٹ آؤ
Kongsi profil
Mahu melihat siaran mereka?
Sertai Jamaa dan jangan terlepas siaran terkini daripada Robina