والد صاحب 2009 میں وفات پا گئے تھے، اور والدہ محترمہ نے اپنا حق مہر معاف فرما دیا تھا۔"
اگر اللہ نے مجھے پسند کی بیوی عطا کی تو میں اسے عزت، محبت اور ہر خوشی دوں گا، اس کا ہر طرح خیال رکھوں گا۔"
کام، شادی، بچہ، گھر، گاڑی... کچھ بھی پکا ہونے سے پہلے چھپاؤ، ہاتھ آ جائے تو شکر کے ساتھ بانٹو
💗اب آپ کی مہربانی میسج کریں مجھے
کوئی ہمیں ٹھکرا بھی دے تو غم نہیں ہے۔۔۔
ارے۔۔۔
ڈوب مرے وہ جس کی قسمت میں ہم نہیں ہیں۔۔۔۔
Bagikan profil
Ingin melihat postingannya?
Gabung ke Jamaa dan jangan pernah lewatkan postingan terbaru dari Jaleel